mynameishammadmalikandmysteemitusernameishammadmalik12345

وہ لڑکا جس کی پیٹھ پر زرد رنگ کی قمیض تھی، کئی مہینوں سے ایک بوجھ دل میں لیے پھر رہا تھا۔ نوکریوں کے اشتہار، ٹیسٹ کی تیاری، گھر والوں کی امیدیں، سب کچھ اس کے کندھوں پر تھا۔ آج وہ سب کچھ چھوڑ کر دریا کے کنارے آ گیا تھا۔

یہ دریائے ستلج کا کنارہ تھا، سامنے ہیڈ ورکس کا پرانا پل تھا۔ پانی آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا، جیسے وقت۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ فضا میں پھیلا دیے۔ اسے لگا جیسے وہ اس بہتے پانی سے کہہ رہا ہو کہ میری ساری پریشانیاں بھی اپنے ساتھ بہا لے جاؤ۔

اس نے گہری سانس لی۔ اوپر درختوں کے پتے ہوا میں ہل رہے تھے، دھوپ اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ اس لمحے اسے احساس ہوا کہ زندگی صرف نوکری یا پیسے کا نام نہیں۔ زندگی اس لمحے کا نام ہے، اس ہوا کا، اس پانی کا، اس آزادی کا۔

اس نے آنکھیں بند کیں اور دل ہی دل میں دعا کی، "اے اللہ، میں نے محنت کر لی ہے، اب نتیجہ تیرے ہاتھ میں ہے۔" اس کا دل جو کئی دنوں سے گھٹا ہوا تھا، آج ہلکا ہو گیا۔

دریا کو دیکھ کر اس نے ایک سبق سیکھا۔ دریا کبھی نہیں رکتا، راستے میں چاہے کتنے بھی پتھر آ جائیں، وہ اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔ اسے بھی رکنا نہیں ہے۔ چاہے POF کا ٹیسٹ ہو، رینجرز کا انٹرویو ہو، یا NCCIA کا امتحان، اس نے چلتے رہنا ہے۔

شام ڈھل رہی تھی۔ وہ مسکرایا، اپنی ٹوپی سیدھی کی، اور واپس گاؤں کی طرف چل پڑا۔ اب اس کے قدموں میں پہلے سے زیادہ ہمت تھی۔ کیونکہ اسے یقین تھا کہ جس طرح دریا آخر سمندر سے مل ہی جاتا ہے، اسی طرح محنت بھی ایک دن منزل سے ملا ہی دیتی ہے۔
IMG-20260825-WA0017.jpg