my name is usman and my steemit user name is usman 0099

"بھٹے کی آخری چمنی"

سڑک کے کنارے ایک پرانی چمنی کھڑی تھی۔ اونچی، اکیلی، اور ٹوٹی پھوٹی۔ اس کا رنگ کالا اور بھورا ہو چکا تھا۔ کبھی اس میں سے دن رات دھواں نکلتا تھا۔ آج وہ خاموش تھی۔

یہ ایک اینٹوں کے بھٹے کی چمنی تھی۔ اس کے ارد گرد لال اینٹوں کے ڈھیر لگے تھے۔ کچھ اینٹیں پکی ہوئی، کچھ کچی۔ ایک چھوٹا سا کچا کمرہ بھی تھا جہاں شاید مزدور رہتے تھے۔ اب وہ کمرہ خالی تھا، دروازہ ٹوٹا ہوا۔

چمنی کے سامنے ایک بجلی کا کھمبا تھا جس پر تاروں کا جال بچھا ہوا تھا۔ اور ایک بڑا خالی بورڈ، جس پر کبھی کسی کا اشتہار لگا ہوگا، اب زنگ آلود ہو کر لٹک رہا تھا۔ سڑک پر کبھی کبھی کوئی موٹر سائیکل یا ٹرک گزر جاتا، پھر پھر خاموشی۔

کہتے ہیں دس سال پہلے یہاں رونق ہوتی تھی۔ صبح چار بجے سے مزدور آ جاتے۔ مٹی گوندھی جاتی، سانچوں میں اینٹیں بنتیں، پھر آگ میں پکائی جاتیں۔ بچے بھی اپنے ماں باپ کے ساتھ وہیں کھیلتے تھے۔ چمنی کا دھواں دور دور سے نظر آتا تھا اور لوگ سمجھ جاتے تھے کہ بھٹہ چل رہا ہے۔

پھر وقت بدلا۔ شہر قریب آ گیا۔ بلڈروں نے زمین مہنگی کر دی۔ مالک نے بھٹہ بیچ دیا۔ مزدور کہیں اور چلے گئے۔ بھٹہ تو گر گیا، پر یہ چمنی رہ گئی۔ اس لیے کہ اس کو گرانا آسان نہیں تھا۔

اب یہ چمنی ایک نشانی ہے۔ ایک طرف سڑک ہے جو شہر کو جا رہی ہے، دوسری طرف یہ پرانی چمنی جو ماضی کو یاد دلا رہی ہے۔ لوگ اس کے پاس سے گزرتے ہیں اور سوچتے بھی نہیں کہ یہاں کبھی کتنے ہاتھوں نے اینٹیں بنائیں جن سے آج ان کے گھر بنے ہیں۔

بوڑھے مستری بشیر کو اب بھی یاد ہے۔ وہ کہتا ہے "یہ چمنی نہیں، ہمارا استاد ہے۔ اس نے ہمیں محنت سکھائی"۔

شام کو جب سورج اس چمنی کے پیچھے ڈوبتا ہے تو اس کا سایہ لمبا ہو کر سڑک تک آتا ہے، جیسے وہ اب بھی کہہ رہی ہو کہ میں یہیں ہوں، اپنی جگہ پر کھڑی۔