#the dairy|| game steemit exclusive games
"شام کا آخری دیا"
مغرب کا وقت ابھی ابھی ختم ہوا تھا۔ آسمان گہرا نیلا ہو چکا تھا۔ دن کی روشنی جا رہی تھی اور رات آہستہ آہستہ قدم بڑھا رہی تھی۔ اس ادھوری دیوار کے پاس کھڑے ہو کر دیکھو تو سامنے ایک ویران کھیت پھیلا ہوا تھا۔
یہ کوئی عام جگہ نہیں تھی۔ یہ کسی کا ادھورا خواب تھا۔ بائیں طرف لال اینٹوں کی دیوار آدھی بنی ہوئی کھڑی تھی۔ نیچے کچھ اینٹیں بکھری پڑی تھیں۔ شاید کسی نے یہاں گھر بنانے کا سوچا تھا، پھر پیسے ختم ہو گئے یا باہر چلا گیا۔ اب صرف دیوار رہ گئی تھی، جو شام کے دھندلکے میں خاموش کھڑی تھی۔
سامنے دور، اندھیرے میں کچھ گھروں کی بتیاں جل رہی تھیں۔ ایک گھر میں پیلی روشنی تھی، جیسے کوئی چراغ جل رہا ہو۔ دوسرے گھر کی کھڑکی سے سفید روشنی آ رہی تھی۔ ان روشنیوں کے بیچ بجلی کی تاریں سیدھی لکیر کی طرح جا رہی تھیں۔ وہ تاروں پر کبھی کبھی چڑیاں بیٹھتی ہیں، پر اب وہ بھی اپنے گھونسلوں کو جا چکی تھیں۔
ہوا ٹھنڈی ہو گئی تھی۔ کھیت میں جھاڑیاں ہل رہی تھیں۔ جھینگر بولنے لگے تھے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب گاؤں کے لوگ چھتوں پر چارپائیاں ڈالتے ہیں اور آسمان کو دیکھتے ہیں۔
ایک بوڑھا شخص اسی ادھوری دیوار کے ساتھ بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اس نے یہ جگہ اپنے بیٹے کے لیے لی تھی۔ بیٹا لاہور چلا گیا، نوکری کرنے۔ اب دو سال ہو گئے، وہ واپس نہیں آیا۔ دیوار وہیں کی وہیں ہے، پر امید باقی ہے۔
اس تصویر میں کچھ نہیں ہے، صرف اندھیرا، اینٹیں، اور دور کی روشنی۔ لیکن اسی میں پوری کہانی ہے۔ ایک طرف ادھورا گھر، دوسری طرف جلتے ہوئے چراغ۔ ایک طرف خاموشی، دوسری طرف زندگی۔
شام ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ اندھیرا کتنا بھی گہرا ہو، کہیں نہ کہیں روشنی ضرور جلتی ہے۔ اور جب تک روشنی ہے، تب تک گھر بننے کی امید بھی باقی ہے۔
