mynameiszafarsabandmysteemitusernameiszafarsab

in Newcomers' Community7 hours ago

شہر کے ایک پرسکون کنارے پر ایک چھوٹا سا گاؤں آباد تھا۔ گاؤں کے چاروں طرف سرسبز کھیت پھیلے ہوئے تھے اور درمیان میں ایک نہر خاموشی سے بہتی تھی۔ دن کے وقت یہاں کسان اپنے کھیتوں میں کام کرتے، بچے کھیلتے اور پرندے درختوں پر چہچہاتے تھے۔ لیکن رات کے وقت یہی جگہ بالکل بدل جاتی تھی۔
ایک شام آسمان پر ہلکی ہلکی سرخی چھائی ہوئی تھی اور چاند آہستہ آہستہ افق سے اوپر آ رہا تھا۔ علی نام کا ایک لڑکا اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا کھیتوں کو دیکھ رہا تھا۔ اسے یہ منظر بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔ اچانک اسے دور کھیت کے کنارے ایک عجیب سی روشنی نظر آئی۔ علی حیران ہوا اور سوچنے لگا کہ آخر یہ روشنی کہاں سے آ رہی ہے؟
وہ خاموشی سے گھر سے نکلا اور کھیتوں کی طرف چل پڑا۔ راستے میں ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور گھاس پر شبنم کے قطرے چمک رہے تھے۔ جب وہ روشنی کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ وہاں ایک بوڑھا کسان بیٹھا آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی لالٹین تھی۔
بوڑھے کسان نے مسکرا کر کہا، "بیٹا، تم یہاں کیسے آئے؟"
علی نے روشنی کے بارے میں پوچھا۔ کسان نے جواب دیا، "یہ روشنی صرف لالٹین کی نہیں، بلکہ امید کی بھی ہے۔ انسان چاہے کتنی ہی مشکل میں ہو، اسے امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔"
علی نے یہ بات دل میں بٹھا لی۔ وہ واپس گھر آیا تو اسے محسوس ہوا کہ آج کی رات پہلے سے کہیں زیادہ خوبصورت ہے۔ چاند وہی تھا، کھیت وہی تھے اور گھر بھی وہی، مگر علی کی نظر بدل چکی تھی۔
اس دن کے بعد جب بھی علی کسی مشکل میں ہوتا، وہ اسی کھیت کی طرف دیکھتا اور اسے بوڑھے کسان کی بات یاد آ جاتی: "اندھیری رات کتنی بھی لمبی ہو، صبح ضرور آتی ہے۔"
41054c6a-cc49-44d9-afa1-fec1b652aae4.jpg