mynameiszafarsabandmysteemitusernameiszafarsab
ایک خوبصورت شام کا وقت تھا۔ آسمان پر ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ شہر کے ایک صاف ستھرے پارک میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی نظر آ رہی تھی۔ رنگ برنگے پودے، تراشے ہوئے جھاڑیاں اور گھاس کا سبز میدان پارک کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہے تھے۔ پارک کے درمیان بچوں کے لیے ایک خوبصورت جھولا اور سلائیڈ بھی بنی ہوئی تھی۔
شام ہوتے ہی بچے اپنے والدین کے ساتھ پارک میں آنا شروع ہوگئے۔ کچھ بچے جھولے جھول رہے تھے، کچھ سلائیڈ پر کھیل رہے تھے جبکہ دوسرے گھاس پر دوڑتے اور ہنستے ہوئے ایک دوسرے کا پیچھا کر رہے تھے۔ ایک چھوٹا بچہ بار بار سلائیڈ پر چڑھتا اور پھر خوشی سے نیچے آتا۔ اس کی ہنسی سے پورا ماحول خوشگوار ہو گیا تھا۔
ایک طرف چند خواتین بنچ پر بیٹھی آپس میں باتیں کر رہی تھیں۔ کچھ لوگ پارک میں چہل قدمی کر رہے تھے۔ بزرگ حضرات بھی تازہ ہوا سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ درختوں پر بیٹھے پرندے اپنی میٹھی آوازوں سے ماحول کو مزید دلکش بنا رہے تھے۔
اچانک ایک بچہ کھیلتے ہوئے اپنی گیند کھو بیٹھا۔ وہ پریشان ہو کر ادھر اُدھر گیند تلاش کرنے لگا۔ اس کے ایک دوست نے جھاڑی کے قریب گیند دیکھ لی اور فوراً اسے اٹھا کر بچے کو دے دی۔ دونوں دوست خوش ہو گئے اور دوبارہ کھیلنے لگے۔
سورج آہستہ آہستہ غروب ہونے لگا۔ آسمان کا رنگ سنہری ہو گیا اور پارک میں روشنی مدھم پڑنے لگی۔ والدین نے بچوں کو گھر جانے کے لیے بلایا۔ بچے خوشی خوشی اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوگئے۔
اس شام نے سب کو یہ احساس دلایا کہ قدرتی ماحول میں چند خوشگوار لمحے انسان کے دل کو سکون اور خوشی سے بھر دیتے ہیں۔
