my name is abdullah12345 and my steemit user name is abdullah12345
دھوپ میں بیٹھی بلی
ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک پیارا سا گھر تھا۔ اس گھر کے صحن میں ایک نارنجی رنگ کی پلاسٹک کی کرسی رکھی ہوئی تھی۔ شام ہوتے ہی اس کرسی پر ایک پیاری سی بلی آ کر بیٹھ جاتی تھی۔ اس کا نام منو تھا۔
منو کا رنگ ہلکا بھورا تھا اور اس پر کالی دھاریاں تھیں۔ اس کی آنکھیں شہد جیسی میٹھی اور چمکدار تھیں۔ جب دھوپ نکلتی تو منو اپنی کرسی پر آ کر بیٹھ جاتی اور آرام سے دھوپ سیکتی۔ وہ کبھی ادھر دیکھتی، کبھی ادھر، جیسے پورے گھر کی رکھوالی کر رہی ہو۔
گھر میں عائشہ نام کی ایک چھوٹی سی بچی رہتی تھی۔ عائشہ کو منو سے بہت پیار تھا۔ وہ روز اسکول سے آ کر پہلے منو کو ڈھونڈتی۔ منو کو دیکھ کر وہ خوش ہو جاتی اور کہتی، "منو، تم پھر اپنی کرسی پر بیٹھی ہو؟"
منو بھی عائشہ کو دیکھ کر دھیرے سے "میاؤں" کرتی، جیسے کہہ رہی ہو، "ہاں، یہ میری خاص کرسی ہے۔"
ایک دن عائشہ نے دیکھا کہ منو اداس بیٹھی ہے۔ اس نے دودھ کا کٹورا لا کر منو کے سامنے رکھا۔ منو نے پہلے عائشہ کی طرف دیکھا، پھر آہستہ آہستہ دودھ پینے لگی۔ دودھ پی کر وہ پھر سے خوش ہو گئی اور اپنی دم ہلانے لگی۔
عائشہ نے اس دن منو کے لیے کرسی پر ایک نرم سا کپڑا بچھا دیا، تاکہ اس کو ٹھنڈ نہ لگے۔ منو اس کپڑے پر بیٹھ کر اتنی خوش ہوئی کہ وہ وہیں سو گئی۔
گھر والے بھی منو سے بہت پیار کرتے تھے۔ جب بھی کوئی مہمان آتا تو منو اپنی کرسی پر بیٹھ کر سب کو دیکھتی، جیسے کہہ رہی ہو، "یہ میرا گھر ہے اور یہ میری کرسی ہے۔"
عائشہ ہر روز منو کا خیال رکھتی۔ وہ اس کو دودھ دیتی، اس سے باتیں کرتی اور اس کے ساتھ کھیلتی۔ منو بھی عائشہ کے پیچھے پیچھے گھومتی رہتی۔
آخر میں سب نے یہ سیکھا کہ جانور بھی ہمارے دوست ہوتے ہیں۔ اگر ہم ان سے پیار کریں تو وہ بھی ہم سے پیار کرتے ہیں۔
