The dairy Game|| A Day Something

کھیت، درخت اور پرانی مشین
ایک خوبصورت گاؤں میں دور دور تک سرسبز کھیت پھیلے ہوئے تھے۔ نیلا آسمان، سفید بادل اور ٹھنڈی ہوا ماحول کو بہت حسین بنا دیتے تھے۔ کھیت کے ایک کنارے پر ایک گھنا سبز درخت کھڑا تھا، جس کے سائے میں اکثر کسان کچھ دیر آرام کیا کرتے تھے۔ اسی درخت کے قریب پانی چلانے کی ایک پرانی مشین بھی رکھی ہوئی تھی۔
یہ مشین گاؤں کے ایک محنتی کسان رحیم کی تھی۔ کئی سال پہلے اس کے والد نے یہ مشین خریدی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ مشین پرانی ہوگئی، مگر رحیم اسے بہت سنبھال کر رکھتا تھا، کیونکہ اس کے ساتھ اس کے والد کی بہت سی یادیں جڑی ہوئی تھیں۔
ایک سال گرمی بہت زیادہ پڑی۔ بارش نہ ہونے کی وجہ سے کھیتوں میں پانی کی کمی ہوگئی۔ گاؤں کے کئی کسان پریشان تھے۔ رحیم نے اپنی پرانی مشین نکالی اور اسے صاف کرکے چلانے کی کوشش کی۔ پہلی بار مشین نہ چلی۔ اس نے ہمت نہ ہاری اور دوبارہ کوشش کی۔ کافی محنت کے بعد مشین چل پڑی اور پانی نالی کے ذریعے کھیتوں تک پہنچنے لگا۔
رحیم نے صرف اپنے کھیت کو پانی نہیں دیا بلکہ پڑوسی کسانوں کے کھیتوں تک بھی پانی پہنچایا۔ سب نے مل کر نالیاں صاف کیں اور پانی کو برابر تقسیم کیا۔ چند دنوں کی محنت کے بعد سبز فصلیں دوبارہ لہلہانے لگیں۔
گاؤں کے بزرگوں نے رحیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا، "مشکل وقت میں دوسروں کے کام آنا ہی اصل انسانیت ہے۔"
رحیم مسکرایا اور درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، پرندے چہچہا رہے تھے اور سامنے لہلہاتی فصلیں اسے محنت کی کامیابی کی خوشی دے رہی تھیں۔
اس دن رحیم کو یقین ہوگیا کہ محنت، ہمت اور دوسروں کی مدد مل کر بڑی سے بڑی مشکل کو بھی آسان بنا دیتی ہے۔
4159.jpg
چھت پر ایک خوبصورت شام
ایک چھوٹے سے گاؤں میں علی اپنے خاندان کے ساتھ ایک سادہ سے گھر میں رہتا تھا۔ اس گھر کی چھت بہت کشادہ تھی اور چھت کے ایک کونے میں اینٹوں کی خوبصورت دیوار بنی ہوئی تھی۔ چھت سے دور تک گاؤں کے گھر، درخت اور کھلے آسمان کا منظر صاف دکھائی دیتا تھا۔
علی کو شام کے وقت چھت پر بیٹھنا بہت پسند تھا۔ ایک دن وہ کام سے واپس آیا تو آسمان نیلے رنگ میں نہایا ہوا تھا اور سفید بادل آہستہ آہستہ تیر رہے تھے۔ سورج کی نرم روشنی اینٹوں کی دیواروں پر پڑ رہی تھی، جس سے پورا ماحول بہت دلکش لگ رہا تھا۔
چھت کے کنارے ایک بڑا سا ہرا بھرا درخت کھڑا تھا۔ اس کی شاخوں پر پرندے چہچہا رہے تھے۔ علی کچھ دیر خاموشی سے درخت کو دیکھتا رہا۔ اسے اپنے والد کی بات یاد آئی کہ "درخت صرف سایہ نہیں دیتے، بلکہ انسان کو صبر، خاموشی اور دوسروں کے کام آنے کا سبق بھی دیتے ہیں۔"
اسی دوران علی کی چھوٹی بہن عائشہ چھت پر آگئی۔ اس کے ہاتھ میں مٹی کا ایک چھوٹا سا گملہ تھا۔ اس نے کہا، "بھائی! میں اس میں ایک پودا لگانا چاہتی ہوں۔ جب یہ بڑا ہوگا تو ہماری چھت بھی اس درخت کی طرح خوبصورت ہوجائے گی۔"
علی نے مسکرا کر اس کی مدد کی۔ دونوں نے مل کر گملے میں مٹی ڈالی، ننھا سا پودا لگایا اور اسے پانی دیا۔
شام گہری ہونے لگی۔ پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹنے لگے اور ٹھنڈی ہوا چلنے لگی۔ علی نے چھوٹے سے پودے کو دیکھا اور سوچا کہ آج انہوں نے صرف ایک پودا نہیں لگایا بلکہ آنے والے کل کے لیے ایک خوبصورت امید بھی بو دی ہے۔
سبق: چھوٹی سی کوشش بھی مستقبل میں بڑی خوشی کا سبب بن سکتی ہے۔
3329.pngعینکوں کی دکان — ایک یادگار دن
شہر کے ایک مصروف بازار میں ایک چھوٹی سی خوبصورت دکان تھی۔ دکان کی شیشے کی الماریوں میں طرح طرح کی عینکیں سجی ہوئی تھیں۔ کہیں کالے شیشوں والی عینکیں تھیں، کہیں رنگ برنگے فریم، اور کہیں سنہری کناروں والی خوبصورت عینکیں۔ دکان کی روشنی جب ان عینکوں پر پڑتی تو وہ ایسے چمکتیں جیسے چھوٹے چھوٹے ستارے ہوں۔
اس دکان کا مالک ایک محنتی اور خوش اخلاق شخص تھا۔ وہ ہر گاہک کو مسکرا کر خوش آمدید کہتا اور اس کے چہرے کے مطابق مناسب عینک منتخب کرنے میں مدد کرتا۔ اس کے لیے دکان صرف روزی کمانے کی جگہ نہیں تھی بلکہ اس کی محنت اور خوابوں کی نشانی تھی۔
ایک دن ایک بوڑھا شخص دکان میں داخل ہوا۔ اس کی نظر کمزور ہو چکی تھی اور اسے اخبار پڑھنے میں بہت مشکل پیش آتی تھی۔ دکاندار نے محبت سے اسے بٹھایا اور کئی فریم دکھائے۔ آخرکار ایک سادہ سی خوبصورت عینک اسے پسند آ گئی۔
بوڑھے شخص نے عینک پہن کر اخبار دیکھا تو اس کے چہرے پر خوشی پھیل گئی۔ وہ مسکرا کر بولا، “بیٹا! اب مجھے سب کچھ صاف نظر آ رہا ہے۔”
دکاندار نے کہا، “چچا جان، عینک تو صرف نظر صاف کرتی ہے، اصل خوشی تو کسی کے کام آنے میں ہے۔”
بوڑھے شخص نے دعا دیتے ہوئے کہا، “اللہ تمہاری دکان میں برکت دے۔”
اس دن دکاندار کو احساس ہوا کہ اس کی دکان میں رکھی ہر عینک کسی نہ کسی انسان کی زندگی کو بہتر بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس کے بعد وہ پہلے سے بھی زیادہ محبت اور ایمانداری سے اپنا کام کرنے لگا۔ni
3762.jpg