The dairy Game|| A Day Something

رات کی روشن گھڑی
رات کا وقت تھا۔ شہر کی سڑکیں گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور سائیکل سواروں سے بھری ہوئی تھیں۔ ہر طرف دکانوں کی روشنیاں جگمگا رہی تھیں، مگر اس ہجوم کے درمیان سب سے زیادہ خوبصورت ایک پرانی سی عمارت لگ رہی تھی۔ اس کے بلند مینار پر لگی گھڑی خاموشی سے وقت بتا رہی تھی، جیسے برسوں سے شہر کے لوگوں کی زندگیوں کی گواہ ہو۔
سڑک پر ٹریفک کا شور تھا، ہارن بج رہے تھے اور لوگ اپنے گھروں کو واپس جانے کی جلدی میں تھے۔ لیکن گھڑی کے نیچے کھڑا ایک بوڑھا شخص بالکل خاموش تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانی تصویر تھی۔ وہ بار بار تصویر کو دیکھتا اور پھر عمارت کی طرف دیکھنے لگتا۔
کچھ دیر بعد ایک نوجوان اس کے قریب آیا اور پوچھا،
“بابا جی، آپ یہاں اکیلے کیوں کھڑے ہیں؟”
بوڑھے نے مسکرا کر کہا، “بیٹا، اس جگہ سے میری بہت سی یادیں جڑی ہیں۔ آج سے تیس سال پہلے میں اسی سڑک پر اپنی بیوی کے ساتھ کھڑا ہوا کرتا تھا۔ ہم دونوں اس گھڑی کو دیکھ کر ایک دوسرے سے وعدہ کرتے تھے کہ چاہے وقت کتنا بھی بدل جائے، ہم ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔”
نوجوان خاموشی سے اس کی بات سنتا رہا۔
بوڑھے نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا، “وقت واقعی بدل جاتا ہے، لوگ بچھڑ جاتے ہیں، مگر یادیں کبھی نہیں مرتیں۔”
اسی لمحے گھڑی نے رات کے دس بجنے کا اعلان کیا۔ اس کی آواز پورے بازار میں گونج گئی۔
بوڑھا شخص مسکرایا، تصویر سینے سے لگائی اور آہستہ آہستہ وہاں سے چل پڑا۔ پیچھے روشن گھڑی اب بھی وقت بتا رہی تھی، جیسے اسے معلوم ہو کہ وقت گزرتا ضرور ہے، مگر سچی محبت کی یاد ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
4182.jpg
وقت کی گھڑی
شہر کی ایک خوبصورت گھڑیوں کی دکان میں ہر طرف قیمتی اور خوبصورت گھڑیاں سجی ہوئی تھیں۔ شیشے کے شوکیس میں رکھی گھڑیوں کی چمک ہر آنے والے کی توجہ اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ انہی گھڑیوں کے درمیان ایک سنہری رنگ کی گھڑی ایسی تھی جو سب سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔
ایک دن علی اپنے والد کے ساتھ اس دکان پر آیا۔ اس کی نظر اسی گھڑی پر پڑی تو وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ اس نے دکاندار سے گھڑی کی قیمت پوچھی، مگر قیمت سن کر خاموش ہوگیا۔ اس کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے۔
والد نے بیٹے کے چہرے پر اداسی دیکھی اور کہا، “بیٹا، آج تمہارے پاس پیسے کم ہیں، لیکن اگر تم اپنے وقت کی قدر کرو گے اور محنت کرتے رہو گے تو ایک دن یہ گھڑی ضرور خرید سکو گے۔”
یہ بات علی کے دل میں اتر گئی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنا وقت فضول کاموں میں ضائع نہیں کرے گا۔ وہ روزانہ محنت سے پڑھنے لگا، اپنے کام وقت پر مکمل کرتا اور تھوڑے تھوڑے پیسے بچانے لگا۔
کئی مہینے گزر گئے۔ آخرکار ایک دن علی دوبارہ اسی دکان پر پہنچا۔ اس کی جیب میں اتنے پیسے تھے کہ وہ اپنی پسندیدہ گھڑی خرید سکتا تھا۔
گھڑی ہاتھ پر باندھتے ہوئے اسے اپنے والد کی بات یاد آئی۔ اس نے گھڑی کی طرف دیکھا اور مسکرا کر کہا، “یہ صرف گھڑی نہیں، میری محنت اور میرے وقت کی قدر کی نشانی ہے۔”
اس دن علی سمجھ گیا کہ وقت بھی پیسے کی طرح قیمتی ہوتا ہے؛ جو اسے ضائع کرتا ہے، وہ بہت کچھ کھو دیتا ہے، اور جو اس کی قدر کرتا ہے، وہ اپنی منزل ضرور پا لیتا ہے۔
3764.jpg