mynameiszafarsabandmysteemitusernameiszafarsab

شام کا وقت تھا اور سورج افق پر ایک روشن گول دائرے کی طرح چمک رہا تھا۔ اس کی سنہری کرنیں سڑک پر اس طرح بکھری ہوئی تھیں جیسے زمین پر سونے کا فرش بچھا دیا گیا ہو۔ یہ ایک کشادہ پُل کا منظر تھا، جس کے دونوں اطراف مضبوط حفاظتی جنگلے بنے ہوئے تھے اور لمبی سٹریٹ لائٹس کے کھمبے قطار میں کھڑے اس پُل کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہے تھے۔
پُل پر ہلکی پھلکی آمدورفت جاری تھی۔ کچھ لوگ موٹر سائیکل اور رکشے پر سوار ہو کر اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھے، جن کے سائے طویل ہو کر پُل کی سڑک پر لمبا سفر طے کر رہے تھے۔ ماحول میں ایک عجیب سا سکون اور ٹھہراؤ تھا، جو صرف شام کے وقت ہی محسوس ہوتا ہے۔
احمد آج پورا دن دفتر کے کاموں میں الجھا رہا تھا، مگر اب جب وہ اس پُل سے گزر رہا تھا تو اسے یوں لگا جیسے اس کی ساری تھکن اس سنہری روشنی میں گھل گئی ہو۔ پُل کے بائیں جانب بنے پرانے مکانات اور دائیں جانب سرسبز درخت اس شام کے منظر کو مزید دلکش بنا رہے تھے۔ دور آسمان پر دھندلی سی فضا میں پرندوں کے گھر لوٹنے کا وقت ہو چکا تھا۔
احمد نے اپنی موٹر سائیکل کی رفتار تھوڑی دیمی کی اور گہرا سانس لیا۔ اس نے سوچا کہ زندگی بھی بالکل اس پُل کی طرح ہے؛ یہاں کبھی چڑھائی ہوتی ہے تو کبھی ڈھلوان، لیکن اصل خوبصورتی اس سفر میں ہے جو ہم حوصلے کے ساتھ طے کرتے ہیں۔ سورج کی مدہم ہوتی ہوئی روشنی نے ہر طرف ایک سحر طاری کر رکھا تھا۔ اس پرسکون شام اور خوبصورت سفر نے احمد کے دل کو ایک نئی امید اور تازگی سے بھر دیا، اور وہ مسکراتے ہوئے اپنے گھر کی طرف بڑھ گیا۔