mynameiszafarsabandmysteemitusernameiszafarsab
صبح کا وقت تھا اور ہلکی دھند میں لپٹی ہوئی فضا انتہائی پرسکون معلوم ہو رہی تھی۔ تصویر کے پیش منظر میں ایک پرانا پول یا کھمبا نظر آ رہا ہے جس پر کچھ اشتہار یا بورڈ آویزاں ہیں۔ اس کے بالکل سامنے لوہے کی دو موازی پٹریاں دور تک سیدھی چلی گئی ہیں، جو کسی نئے سفر یا آنے والی ریل گاڑی کی خاموشی سے منتظر دکھائی دیتی ہیں۔
پٹریوں کے دوسری جانب اینٹوں سے بنے ہوئے کچھ پرانے مکانات، اور ان کے ارد گرد سرسبز درخت اس منظر کو ایک دیہاتی اور سچے ماحول کا روپ دے رہے ہیں۔ فضا میں ایک مدہم سا ٹھہراؤ تھا، جیسے وقت یہاں آ کر کچھ دیر کے لیے سست ہو گیا ہو۔
بلال، جو اکثر صبح کی سیر کے لیے اس راستے پر آتا تھا، آج پٹری کے کنارے کھڑا ہو کر دور افق کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے بچپن کی بہت سی یادیں اس ریلوے لائن سے وابستہ تھیں جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ یہاں بیٹھ کر آنے والی گاڑیوں کا انتظار کیا کرتا تھا۔ زندگی کی مصروفیتوں نے اسے شہر تو بھیج دیا تھا، لیکن جب بھی وہ اپنے گاؤں واپس آتا، اس پٹری کی خاموشی اسے ہمیشہ اپنے پاس کھینچ لاتی۔
ہوا کے ہلکے جھونکے نے درختوں کے پتوں کو سرسراہٹ دی تو بلال کی سوچوں کا سلسلہ ٹوٹا۔ اس نے گہرا سانس لیا اور محسوس کیا کہ چاہے وقت کتنی ہی تیزی سے کیوں نہ گزر جائے، کچھ جگہیں ہمیشہ ویسی کی ویسھی رہتی ہیں جو انسان کو اس کی جڑوں سے جوڑے رکھتی ہیں۔ اس پرسکون اور دلفریب صبح کے احساس کے ساتھ، بلال ہلکا سا مسکرایا اور اپنے گھر کی جانب واپس چل دیا۔
