mynameiszafarsabandmysteemitusernameiszafarsab

in Steem For Pakistan • 16 hours ago

سورج کی ہلکی روشنی میں نہایا ہوا یہ ایک عام مگر پُراسرار سا قصبہ تھا۔ سڑک کے بالکل اوپر نیلے رنگ کا ایک بڑا سا بورڈ لگا ہوا تھا، جس پر سفید حروف میں صاف درج تھا: "ہیوی ٹریفک کیلئے داخلہ ممنوع ہے" اور ساتھ ہی بائیں اور دائیں جانب اونچائی کی حد 10.6 فٹ لکھی ہوئی تھی۔
اس قصبے میں زندگی اپنی مدہم رفتار سے رواں دواں تھی۔ سڑک پر گرد اڑاتی ہوئی ایک سفید رنگ کی چھوٹی کار (Suzuki) تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی، جس کا نمبر DLP 728 واضح طور پر دکھائی دے رہا تھا۔ کار کے ارد گرد ہلکی چہل پہل تھی؛ کچھ لوگ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر اپنے کام کی طرف جا رہے تھے، تو کچھ سڑک کنارے بنی چھوٹی دکانوں اور سامان میں مصروف تھے۔
یہ قصبہ باہر کے بڑے شور شرابے اور ہیوی ٹریفک سے محفوظ تھا، جس کی وجہ سے یہاں کا ماحول کافی پرسکون اور محفوظ محسوس ہوتا تھا۔ سڑک کے دونوں اطراف زرد اور سیاہ رنگ کے ٹریفک بیریئرز رکھے ہوئے تھے جو نظم و ضبط کی کہانی سنا رہے تھے۔
علی، جو اسی قصبے کا ایک نوجوان تھا، اس روز موٹر سائیکل پر سوار ہو کر اپنے گھر سے نکلا۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ آج قصبے کے اس دروازے سے گزر کر پرانے بازار کی طرف جایا جائے۔ راستے میں اس نے دیکھا کہ لوگ کتنی محنت اور سکون سے روزگار کما رہے ہیں۔ ہیوی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی کی وجہ سے یہاں نہ صرف حادثات کا خطرہ کم تھا بلکہ ہوا بھی صاف ستھری تھی۔
علی جب اس نیلے بورڈ کے نیچے سے گزرا تو اسے یوں محسوس ہوا جیسے یہ پابندی دراصل اس بستی کے امن اور سکون کی محافظ ہے۔ اس نے دل میں سوچا کہ قوانین صرف قید کرنے کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ یہ ہماری زندگی کو محفوظ اور خوبصورت بنانے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ اس خوشگوار احساس کے ساتھ، علی مسکراتے ہوئے اپنے منزل کی جانب آگے بڑھ گیا۔
2e928d14-2e89-4f1f-a971-0e23ca6fb3d0.jpg