mynameiszafarsabandmysteemitusernameiszafarsab
شام کا وقت تھا اور سورج ڈھلنے کے قریب تھا، جب علی نے شہر کے شور شرابے سے دور کچھ لمحے سکون میں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ وہ ایک کھلے اور سرسبز باغ میں پہنچ گیا، جہاں کی فضا انتہائی پرسکون اور دل کو موہ لینے والی تھی۔ باغ کے بیچوں بیچ ایک کچا راستہ جا رہا تھا جس کے دونوں اطراف قطار میں تراشے ہوئے ہرے بھرے پودے اور چھوٹے درخت لگے ہوئے تھے۔ ان پودوں کی خوبصورت تراش خراش دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے بہت محبت اور محنت سے اس باغ کو سنوارا ہو۔
راستے کے دونوں طرف سرسبز گھاس اور مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو ہوا میں رچی बसी تھی۔ دور سامنے ایک پرانی اینٹوں کی بنی ہوئی دیوار دکھائی دے رہی تھی جس کے ساتھ چند مزید درخت اور کھجور کے چھوٹے پودے اس منظر کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کر رہے تھے۔ آسمان ہلکا ابر آلود تھا اور ماحول میں ایک عجیب سا ٹھہراؤ اور سکون تھا۔
علی اس اکیلے راستے پر آہستہ آہستہ چلنے لگا۔ اس نے لمبی سانس لی اور سوچنے لگا کہ روزمرہ کی دوڑ دھوپ اور الجھنوں کے درمیان ایسی قدرتی جگہیں کتنی قیمتی ہوتی ہیں جہاں انسان کو ذہنی سکون مل سکے۔ پودوں کے پتوں سے ہلکی ہوا گزرنے کی سرسراہٹ ایسی تھی جیسے کوئی پرانا گیت گنگنا رہی ہو۔
جیسے جیسے قدم آگے بڑھ رہے تھے، دل کا بوجھ ہلکا ہو رہا تھا۔ اس سرسبز راہداری پر چلتے ہوئے اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ دنیا کے تمام غموں سے دور کسی اور ہی دنیا میں آ گیا ہو۔ جب وہ راستے کے آخر تک پہنچا، تو اس کے چہرے پر ایک مطمئن مسکراہٹ تھی، اور وہ اس حسین شام کو ہمیشہ کے لیے اپنے دل میں بسائے گھر کی طرف واپس لوٹ آیا۔
