my name is abdullah12345 and my steemit user name is abdullah12345
یہ دیپالپور کے ریلوے اوور بریج کی شام ہے۔ سورج آہستہ آہستہ افق میں ڈوب رہا ہے اور آسمان نارنجی روشنی میں نہا گیا ہے۔ نیچے دو ریلوے پٹریاں دور تک چلی جا رہی ہیں، جن کے دونوں طرف جھاڑیاں اور کچھ کچے پکے مکان ہیں۔اس پل پر ہر شام ایک بوڑھا شخص آ کر کھڑا ہوتا تھا۔ اس کا نام بشیر تھا۔ لوگ اسے چاچا بشیر کہتے تھے۔ وہ کوئی ٹرین دیکھنے نہیں آتا تھا، بلکہ اس کی یادوں کی ٹرین اسی جگہ سے گزرتی تھی۔چالیس سال پہلے وہ اسی پٹری کے ساتھ والے اسٹیشن پر قلی کا کام کرتا تھا۔ جوانی میں اس نے اسی پل سے نہ جانے کتنی ٹرینوں کو آتے جاتے دیکھا تھا۔ ہر ٹرین کے ساتھ کوئی کہانی جڑی تھی۔ کوئی فوجی چھٹی پر گھر جا رہا ہے، کوئی مزدور شہر سے پیسے کما کر واپس آ رہا ہے، کوئی ماں اپنے بیٹے کا انتظار کر رہی ہے۔آج اس کا اپنا بیٹا لاہور سے واپس آنے والا تھا، تین سال بعد۔ بشیر کی جیب میں پرانا سا موبائل تھا جس پر بار بار وقت دیکھ رہا تھا۔ ٹرین لیٹ تھی۔ سورج کی روشنی مدھم ہو رہی تھی لیکن اس کی آنکھیں پٹری کے اس موڑ پر جمی تھیں جہاں سے ٹرین نظر آنی تھی۔ساتھ سے گزرتے ایک بچے نے پوچھا، چاچا کس کا انتظار ہے؟بشیر مسکرایا اور بولا، وقت کا بیٹا، وقت کا۔ یہ پٹریاں صرف لوہا نہیں ہیں، یہ انتظار ہیں۔ جو انتظار کرنا سیکھ لے، وہ کبھی اکیلا نہیں رہتا۔اسی لمحے دور سے ٹرین کے ہارن کی آواز آئی۔ نارنجی شام میں ایک کالی لکیر آہستہ آہستہ بڑی ہونے لگی۔ بشیر کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ اس کا انتظار ختم ہونے والا تھا۔
