mynameisabdullah12345andmysteemitusernameisabdullah12345

یہ کہانی عبداللہ کے ایک ایسے سفر کی ہے جو صرف راستوں کا نہیں، بلکہ اس کے خوابوں کا سفر تھا:
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور ہائی وے پر واقع اس بڑے پٹرول پمپ کی رنگ برنگی روشنیاں اندھیرے کو مات دے رہی تھیں۔ عبداللہ نے اپنی سرخ گاڑی کو پمپ کے ایک گوشے میں روکا۔ سفر طویل تھا اور ہائی وے کی تھکن اب اس کے چہرے سے ہلکی سی عیاں تھی، لیکن اس کی آنکھوں میں ایک انوکھی چمک اور دل میں ایک عزم تھا۔ وہ اپنی زندگی کے ایک بہت بڑے امتحان یعنی شہر کے ایک نامور تعلیمی ادارے میں داخلے اور نئے ہاسٹل کی زندگی کا آغاز کرنے کے لیے اپنے گھر سے نکلا تھا۔
گاڑی میں ایندھن بھرواتے وقت، عبداللہ باہر آیا اور ٹھنڈی ہوا کا ایک گہرا جھونکا اپنے اندر اتارا۔ اس نے براؤن رنگ کی اپنی پسندیدہ شرٹ پہن رکھی تھی اور کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالی—وقت تیزی سے گزر رہا تھا، لیکن اس نے کچھ دیر رک کر ماحول کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اس پٹرول پمپ کے سروس ایریا اور سامنے بنے ریسٹورنٹ پر لوگوں کا ایک تانتا بندھا ہوا تھا۔ مسافر، خاندان اور ڈرائیورز سبھی اپنے اپنے سفر کی دھن میں مگن تھے۔
اس ہنگامے کے درمیان، عبداللہ چند لمحوں کے لیے ماضی کی یادوں میں کھو گیا۔ اسے یاد آیا کہ کیسے اس نے اس مقام تک پہنچنے کے لیے دن رات ایک کیے تھے، اپنے چھوٹے سے قصبے میں بیٹھ کر بڑے خواب دیکھے تھے اور کیسے اس کے والدین نے اس کی ہر ضرورت کو پورا کرنے کے لیے قربانیاں دی تھیں۔ اس کے والد کے الوداعی الفاظ اس کے کانوں میں گونج رہے تھے: "بیٹا، زندگی کے سفر میں کبھی تھکنا مت، منزل انہی کو ملتی ہے جو ہائی وے کی دشواریوں سے نہیں گھبراتے۔"
اسی دوران پٹرول پمپ کے ملازم کی آواز نے اس کا دھیان بٹایا، "سر، ایندھن پورا ہو گیا ہے۔"
عبداللہ نے مسکرا کر بل ادا کیا۔ اس نے اپنے موبائل پر نظر ڈالی جہاں ماں کا فکرمندانہ پیغام چمک رہا تھا۔ اس نے جلدی سے جواب لکھا، "اماں، میں بالکل ٹھیک ہوں، بس تھوڑا ہی سفر باقی ہے۔"
اس نے ایک گہرا سانس لیا، اپنے اندر ایک نیا حوصلہ محسوس کیا، اور گاڑی کی طرف بڑھا۔ رات کی تاریکی میں آگے بڑھنے کے لیے وہ اب بالکل تیار تھا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ہر اندھیری رات کے بعد ایک روشن صبح اس کا انتظار کر رہی ہے۔
