My name is Hamad and my steemit user name is hammadmalik12345

in #the3 days ago

"دریا کے کنارے کھڑا لڑکا"

زرد قمیض والا لڑکا، سر پر سفید ٹوپی پہنے، دونوں ہاتھ کمر پر رکھے دریا کے کنارے کھڑا تھا۔ اس کے سامنے پانی کی لہریں آہستہ آہستہ کنارے سے ٹکرا رہی تھیں اور دور جا کر بند کے ساتھ مل جاتی تھیں۔ شام کا وقت تھا۔ آسمان پر ہلکی نارنجی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ ہوا میں مٹی اور پانی کی ملی جلی خوشبو تھی۔

اس کا نام بلال تھا۔ وہ دیپالپور سے تین گھنٹے کا سفر کر کے یہاں آیا تھا۔ پانچ سال پہلے اسی بند کے کنارے اس نے اپنے والد کے ساتھ آخری بار چائے پی تھی۔ اس دن والد نے کہا تھا، "بیٹا، زندگی بھی اس دریا جیسی ہے۔ کبھی تیز، کبھی پرسکون۔ لیکن بہتی رہنی چاہیے۔"

اس کے بعد والد کا انتقال ہو گیا۔ بلال شہر چلا گیا، نوکری کی، مصروف ہو گیا۔ لیکن دل کے کسی کونے میں یہ جگہ رہ گئی۔ آج کمپنی سے چھٹی ملی تو وہ سیدھا یہاں آ پہنچا۔

وہ سوچ رہا تھا کہ زندگی کتنی جلدی گزر جاتی ہے۔ وہ بند جو بچپن میں اسے بہت بڑا لگتا تھا، آج بھی ویسا ہی مضبوط کھڑا تھا۔ پانی آتا، ٹکراتا، اور گزر جاتا۔ جیسے دکھ، جیسے یادیں۔

بلال نے گہری سانس لی۔ پیچھے مرغابیاں اڑ رہی تھیں۔ کنارے کی مٹی میں اس کے قدموں کے نشان بن رہے تھے۔ اسے لگا جیسے والد اس کے پیچھے کھڑے مسکراتے ہوئے کہہ رہے ہیں، "دیکھا بیٹا، رکنا نہیں ہے۔"

اس نے موبائل نکالا، ایک تصویر لی، اور فجر کی اذان سے پہلے واپس شہر جانے کا ارادہ کر لیا۔ دریا بہتا رہے گا۔ بند کھڑا رہے گا۔ اور وہ بھی اب اپنی زندگی کے ساتھ آگے بڑھ جائے گا۔ اس بار رونے کے لیے نہیں، بلکہ شکر کرنے کے لیے۔

کیونکہ کچھ یادیں ہمیں توڑنے نہیں، جوڑنے آتی ہیں۔


IMG-20260825-WA0010.jpg