مزدور باپ اور اس کے دو بیٹے - ایک سچی کہانی
ایک گاؤں میں ایک غریب مزدور رہتا تھا۔ اس کے دو بیٹے تھے۔
بڑا بیٹا ہر وقت شکایت کرتا تھا، "ہمارے پاس کچھ نہیں ہے، ہم کبھی امیر نہیں بن سکتے۔"
چھوٹا بیٹا روز اپنے باپ کے ساتھ مزدوری پر جاتا اور کہتا، "ابا جان، آج ہم تھوڑا اور کام کر لیتے ہیں، کل آسانی ہو جائے گی۔"
وقت گزرا۔
بڑا بیٹا شکایتیں کرتے کرتے وہیں کا وہیں رہ گیا۔
چھوٹے بیٹے نے تھوڑے تھوڑے پیسے جوڑ کر ایک چھوٹی سی دکان بنا لی۔ اسی دکان سے آج اس کا پورا گھر چلتا ہے۔
اس کہانی سے مجھے ایک بات سمجھ آئی ہے کہ غربت بری نہیں ہوتی، سوچ کا غریب ہونا برا ہوتا ہے۔
اگر نیت صاف ہو اور محنت سچی ہو، تو اللہ راستہ خود بنا دیتا ہے۔
آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ کیا محنت واقعی قسمت بدل دیتی ہے؟
En mi experiencia, el detalle de que el hijo menor haya juntado poco a poco el dinero para abrir una tiendita me recuerda cuando mi familia empezó un pequeño negocio de artesanías. The other day I realized that those incremental steps often create the biggest breakthroughs. What do you think is the tipping point where consistent effort outweighs the initial lack of resources?